incorrect_sentence stringlengths 11 255 | correct_sentence stringlengths 10 224 | errant_style_edit_tags stringlengths 3 240 |
|---|---|---|
انھوں نے کہا اچھا میں چلتا ہوں پھر ملاقات کرے گے۔ | انھوں نے کہا اچھا میں چلتا ہوں، پھر ملاقات کریں گے۔ | U:PUNCT R:VERB:INFL |
بشیر احمد ساربان کراچی میں رہتا تھا اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ۔ | بشیر احمد ساربان کراچی میں رہتا تھا اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ۔ | R:PRON:INFL |
انہوں نے امریکہ کے وزیر اعظم کو اپنی اونٹ گاڑی میں بٹھا کر کافی جگہوں کا سیر کروائی۔ | انہوں نے امریکہ کے وزیر اعظم کو اپنی اونٹ گاڑی میں بٹھا کر کافی جگہوں کی سیر کروائی۔ | R:ADP:INFL |
اگر میں امریکہ چلا جاؤں گا تو میرے گھر والوں کو کھانا کیسے دوں گا۔ | اگر میں امریکہ چلا جاؤں گا تو میں اپنے گھر والوں کو کھانا کیسے دوں گا۔ | R:PRON U:PRON |
اس میں رنگ برنگے پھول پھل سبزیاں تھے۔ | اس میں رنگ برنگی پھول، پھل اور سبزیاں تھیں۔ | R:VERB U:PUNCT U:CCONJ R:AUX:INFL |
ایک دفعہ کا ذکر ہے کے ایک گاؤں میں بہت خوبصورت باغ تھا اس میں رنگ برنگے پھول ہے اور کے اوپر چہچاتے پرندے اور خوبصورت تتلیاں بھی ہے۔ | ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں بہت خوبصورت باغ تھا اس میں رنگ برنگے پھول ہے اور اسکے اوپر چہچاتے پرندے اور خوبصورت تتلیاں بھی تھیں۔ | R:ADP R:ADP R:AUX |
ہر کوئی جب بھی وہاں سے گزارتا تو اس کو اتنی اچھی خوشبو آتی کے وہ وہی رک کے خوبصورت پھول دیکھنے لگتا۔ | ہر کوئی جب بھی وہاں سے گزرتا تو اس کو اتنی اچھی خوشبو آتی کہ وہ وہیں رک کہ خوبصورت پھول دیکھنے لگتا۔ | R:VERB R:ADP R:PRON R:AUX |
اس بوڑھے انکل کو پتا چلتا ہے کے اسے کینسر ہے۔ | اس بوڑھے انکل کو پتا چلتا ہے کہ اسے کینسر ہے۔ | R:ADP |
اس بچہ نہ ذمہ داری لے لی۔ | اس بچے نے ذمہ داری لے لی۔ | R:NOUN:INFL R:PART |
انھیں یہ باغ دیکھا۔ | انھیں یہ باغ دکھا۔ | R:VERB |
ان لوگوں نے کہاں یہ باغ کی جتنی قیمت مانگوں گے میں دوں گا۔ | ان لوگوں نے کہا اس باغ کی جتنی قیمت مانگو گے ہم دے دیں گے۔ | R:PRON R:DET:INFL R:VERB:INFL R:PRON U:VERB R:VERB:INFL R:AUX:INFL |
گاؤں والے بولتے ہے بیچ دے اس باغ کو۔ | گاؤں والے بولتے ہیں بیچ دے اس باغ کو۔ | R:AUX:INFL |
عاصم بوڑھے کی بات یاد آجاتی ہے کے ان نے کہاں تھا کے یہ باغ اچھی طرح حفاظت کرنا تو عاصم نے سوچ لیا اسے میں کبھی بھی نہیں بیچو گا۔ | عاصم کو بوڑھے کی بات یاد آجاتی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اس باغ کی اچھی طرح حفاظت کرنا تو عاصم نے سوچ لیا کہ اسے میں کبھی بھی نہیں بیچوں گا۔ | U:ADP R:ADP R:PRON R:PRON R:ADP R:DET:INFL U:ADP U:SCONJ R:VERB |
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.